صحیح بخاری حدیث ۲۰۳۱ - اعتکاف میں سر دھلوانا
اعتکاف اور حیض: سر مبارک دھونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۰۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۳۱
وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهْوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور میں حائضہ ہوتی۔ اس کے باوجود آپ سر مبارک (مسجد سے) باہر کر دیتے اور میں اسے دھوتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں ہوتے، اپنا سر مسجد سے باہر کر دیتے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض کی حالت میں اسے دھو دیتیں۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر اعتکاف اور حیض کے بارے میں ایک عملی بات بتاتی ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں معتکف رہنا بھی معلوم ہوتا ہے، اور یہ بھی کہ سر دھلوانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے طور پر گھر میں داخل نہیں ہوئے، بلکہ سر باہر کر دیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حیض میں ہونا بھی حدیث کا حصہ ہے۔ اس لیے یہ حدیث اعتکاف کے مسائل اور حیض کی حالت میں بعض گھریلو خدمت کے حوالے سے ایک واضح مثال دیتی ہے۔ بات اسی متن تک محدود رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم اعتکاف میں مسجد میں رہتے ہوئے سر باہر کر دیتے تھے۔
- عائشہؓ حیض کی حالت میں بھی آپ صلى الله عليه وسلم کا سر دھو دیتی تھیں۔
- اعتکاف میں ضرورت کے کام مناسب طریقے سے کیے جا سکتے ہیں۔
