صحیح بخاری حدیث ۲۰۳۰ - حیض کی حالت میں جسمانی قربت

حیض کی حدیث: پاکیزہ انداز میں جسمانی قربت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۳۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ.

عائشہ روایت:

میں حائضہ ہوتی پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بدن سے لگا لیتے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ حیض کی حالت میں ہوتیں، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے بدن سے لگا لیتے۔ اس روایت کا موضوع حیض کی حالت میں ایک پاکیزہ گھریلو تعلق ہے۔ یہاں حدیث کے الفاظ کے مطابق بات اتنی ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے جسم سے لگایا۔ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ حیض کی حالت عورت کو نفرت یا دوری کا سبب نہیں بناتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل نرمی، محبت اور پاکیزگی پر مبنی تھا۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے احتیاط ضروری ہے کہ اس سے وہ باتیں نہ نکالی جائیں جو متن میں نہیں ہیں۔ اصل پیغام یہ ہے کہ حیض کے دنوں میں بھی بیوی کے ساتھ عزت اور محبت والا برتاؤ رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حیض کی حالت میں عورت سے نفرت یا سخت دوری کا انداز درست نہیں۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا برتاؤ گھر کے اندر نرمی اور محبت والا تھا۔
  • حدیث میں جسم سے لگانے کا عمل بیان ہوا ہے، اس سے آگے بات نہ بڑھائی جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں