صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۵ - رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف
اعتکاف کی حدیث: رمضان کے آخری عشرے میں نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل
صحیح بخاری : ۲۰۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۲۵
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ حدیث مختصر ہے، مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے۔ اعتکاف کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ آخری عشرہ اللہ کی عبادت کے لیے خاص توجہ کا وقت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف اختیار کرتے، یعنی عام مصروفیات سے الگ ہو کر عبادت میں لگتے۔ اس روایت میں اعتکاف کے تفصیلی احکام بیان نہیں ہوئے، اس لیے اسی حد تک بات رکھی جائے گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول آخری عشرے میں اعتکاف کرنا تھا۔ جو شخص رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف سمجھنا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ حدیث بنیادی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا عمل تھا۔
- اعتکاف عبادت کے لیے خاص یکسوئی کا طریقہ ہے۔
- آخری عشرے کو عبادت کے لیے زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
