صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۷ - شب قدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں

شب قدر کی طاق راتیں: آخری عشرے میں تلاش کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۲۷

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْ صَبِيحَتِهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ ، قَالَ : مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي ، فَلْيَعْتَكِفْ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ ، وَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ مِنْ صَبِيحَتِهَا ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ " ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ ، فَبَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبْهَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ ، مِنْ صُبْحِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ .

ابو سعید خدری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دنوں میں اعتکاف کیا اور جب اکیسویں تاریخ کی رات آئی۔ یہ وہ رات ہے جس کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے باہر آ جاتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ اب آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے۔مجھے یہ رات (خواب میں) دکھائی گئی، لیکن پھر بھلا دی گئی۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اسی کی صبح کو میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں، اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ کی طاق رات میں تلاش کرو، چنانچہ اسی رات بارش ہوئی، مسجد کی چھت چوں کہ کھجور کی شاخ سے بنی تھی اس لیے ٹپکنے لگی اور خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اکیسویں کی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رمضان کے اعتکاف اور شب قدر کی تلاش کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو، وہ آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ شب قدر دکھائی گئی تھی، پھر بھلا دی گئی، اس لیے اسے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں کیچڑ اور پانی میں سجدہ دیکھا، پھر اکیسویں صبح آپ کی پیشانی مبارک پر کیچڑ کا اثر دیکھا گیا۔ یہ حدیث شب قدر کی طاق راتیں، اعتکاف اور آخری عشرے کی محنت کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اعتکاف کرنے والوں کو آخری عشرہ بھی جاری رکھنے کا حکم دیا۔
  • حدیث میں اکیسویں صبح کیچڑ کے نشان کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
  • عبادت میں تلاش اور محنت کا انداز اپنانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں