صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۶ - وفات تک آخری عشرے کا اعتکاف
رمضان کا اعتکاف: نبی صلى الله عليه وسلم اور ازواج مطہرات کا عمل
صحیح بخاری : ۲۰۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۰۲۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ " ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۰۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف کرتی رہیں۔ یہ روایت اعتکاف کی اہمیت کو نہایت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ عمل کا تسلسل دکھایا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے کے اعتکاف کو زندگی بھر جاری رکھا، اور آپ کے بعد آپ کے گھر والوں نے بھی اس عمل کو اپنایا۔ اس سے رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف ایک معروف اور سنجیدہ عبادت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نیک عمل کو مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دینا بڑی اہم بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم رمضان کے آخری عشرے میں مسلسل اعتکاف کرتے رہے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد ازواج مطہرات نے بھی اعتکاف کیا۔
- نیک عمل میں دوام اور پابندی کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
