صحیح مسلم حدیث ۶۸۴ - اعتکاف کا ادب

اعتکاف میں ضرورت اور کنگھی کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ ، فَأُرَجِّلُهُ ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ ، إِلَّا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرتے تو اپنا سر میری طرف جھکا دیتے میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف نہ لاتے (مسجد سے) مگر ضروری حاجت (پیشاب و پاخانہ وغیرہ) کے واسطے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۴ کا خلاصہ

یہ حدیث اعتکاف کے آداب کو بہت سادہ انداز میں بتاتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کرتے تو اپنا سر ان کی طرف جھکا دیتے، وہ اس میں کنگھی کر دیتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف نہ لاتے مگر ضروری حاجت کے لیے۔ اس سے اعتکاف کا بنیادی ادب معلوم ہوتا ہے کہ معتکف اصل میں مسجد ہی میں رہتا ہے اور گھر جانا صرف ضرورت کے لیے ہوتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف میں جسمانی صفائی اور بال سنوارنا چھوڑ دینے والی چیز نہیں، جب یہ جائز حد میں ہو۔ یہ حدیث اعتکاف کا طریقہ، معتکف کے گھر جانے کا حکم، اور اعتکاف میں کنگھی جیسے عام سوالات کا مختصر جواب دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اعتکاف میں اصل قیام مسجد میں ہوتا ہے۔
  • گھر جانا حدیث کے مطابق ضروری حاجت کے لیے تھا۔
  • اعتکاف کے دوران سر کی کنگھی کرانا ذکر کیا گیا ہے۔
  • عبادت کے ساتھ صفائی اور سلیقہ بھی باقی رکھا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں