صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۵ - سواری پر وتر اور نفل نماز
وتر اور نفل نماز سواری پر پڑھنے کی سنت
صحیح بخاری : ۱۰۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۹۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا ، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " .
نافع روایت:
ابن عمر رضی اللہ عنہما نفل نماز سواری پر پڑھتے تھے۔ اسی طرح وتر بھی۔ اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سفر میں اپنی سواری پر نفل اور وتر نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر بھی نفل نماز کی طرح سواری پر ادا کی جا سکتی ہے۔ یہ سہولت سفر کی حالت میں دی گئی ہے تاکہ عبادت جاری رہے اور سفر کی مشقت میں رکاوٹ نہ آئے۔ یہ نبی صلى الله عليه وسلم کی عملی سنت ہے جسے صحابہ نے مضبوطی سے اپنایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر نماز سواری پر ادا ہو سکتی ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل صحابہ کے لیے دلیل ہے
- سفر میں عبادت جاری رکھنا آسان ہے
