صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۶ - سواری پر اشاروں سے نماز پڑھنا
سواری پر اشاروں کے ذریعے نماز ادا کرنا
صحیح بخاری : ۱۰۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۰۹۶
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ يُومِئُ ، وَذَكَرَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " .
عبداللہ بن دینار روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا۔ آپ اشاروں سے نماز پڑھتے۔ آپ کا بیان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۰۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سفر میں اپنی سواری پر اشاروں کے ذریعے نماز ادا کرتے تھے، چاہے سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں نفل نماز کے لیے اشاروں سے نماز پڑھنا جائز ہے۔ یہ سہولت اس لیے دی گئی تاکہ سفر کے دوران عبادت ترک نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سواری پر اشاروں سے نماز جائز ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عملی طور پر یہ طریقہ سکھایا
- سفر میں عبادت ترک نہیں کی جاتی
