صحیح مسلم حدیث ۷۰۲ - جنبی آدمی کا وضو کر کے سونا
جنبی آدمی کا سونا: وضو کر کے آرام کرنے کی اجازت
صحیح مسلم : ۷۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۲
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ واللفظ لهما ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأَ " .
ابن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کوئی سونا چاہے اور وہ جنبی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کرے۔ پھر سو سکتا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گھریلو اور عملی سوال پوچھا کہ اگر آدمی جنبی ہو اور سونا چاہے تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف جواب دیا کہ وضو کرے، پھر سو سکتا ہے۔ اس میں جنابت کے بعد وضو، جنبی کا سونا، اور غسل سے پہلے آرام کرنے کا مسئلہ بہت آسان انداز میں سمجھ آتا ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر حال میں فوراً غسل ہی کیا جائے، بلکہ یہاں وضو کر کے سونے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں پاکیزگی کا اہتمام بھی ہے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنبی شخص سونے سے پہلے وضو کر لے تو سو سکتا ہے۔
- دینی مسائل پوچھنے میں جھجک نہیں ہونی چاہیے۔
- طہارت کا خیال رکھنا روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔
