صحیح مسلم حدیث ۷۰۳ - جنابت میں وضو اور غسل کی گنجائش
جنابت میں سونا: وضو کریں، پھر جب چاہیں غسل کریں
صحیح مسلم : ۷۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، لِيَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ لِيَنَمْ ، حَتَّى يَغْتَسِلَ إِذَا شَاءَ " .
ابن عمر روایت:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا: اگر کوئی ہم میں سے جنبی ہو تو وہ سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وضو کر لے، پھر سو رہے اور جب چاہے غسل کر لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا جنبی شخص سو سکتا ہے؟ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، وہ وضو کرے، پھر سو جائے، یہاں تک کہ جب چاہے غسل کر لے۔ اس حدیث میں جنابت کے بعد وضو، غسل جنابت میں تاخیر، اور سونے سے پہلے طہارت کا ادب صاف بیان ہوا ہے۔ بات بہت سادہ ہے: اگر فوراً غسل نہ کیا جائے تو وضو کر کے سونا جائز بتایا گیا۔ اس سے آدمی کو دین کی نرمی سمجھ آتی ہے، مگر ساتھ ہی صفائی اور وضو کی عادت بھی باقی رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنبی شخص وضو کر کے سو سکتا ہے۔
- غسل بعد میں کیا جا سکتا ہے جب آدمی بیدار ہو یا چاہے۔
- سوال پوچھ کر شرعی طریق معلوم کرنا اچھی بات ہے۔
