صحیح بخاری حدیث ۲۸۹ - جنابت میں وضو کے بعد نیند
جنابت میں وضو کے بعد سونا: مختصر اور واضح حکم
صحیح بخاری : ۲۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۹
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : اسْتَفْتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
کیا ہم جنابت کی حالت میں سو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن وضو کر کے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم جنابت کی حالت میں سو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، جب وضو کر لے۔ یہ روایت مختصر ہے مگر مسئلہ بہت صاف کر دیتی ہے۔ جنابت میں سونا ہو تو وضو کر لینا چاہیے۔ یہاں وضو کو غسل جنابت کا بدل بنا کر بیان نہیں کیا گیا، بلکہ نیند سے پہلے پاکی کا ایک عمل بتایا گیا ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے لوگ جنبی ہو کر سونے کا حکم، جنابت میں وضو، اور غسل سے پہلے سونے کا مسئلہ تلاش کرتے ہیں۔ بات آسان ہے: سوال کا جواب اجازت کے ساتھ وضو کی شرط میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنابت میں سونے سے پہلے وضو کرنا حدیث میں آیا ہے۔
- سوال کا جواب مختصر مگر واضح انداز میں دیا گیا۔
- وضو نیند سے پہلے پاکی کا ادب ہے۔
- حدیث کو غسل کے مکمل بدل کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔
