صحیح بخاری حدیث ۲۸۶ - جنابت میں سونے سے پہلے وضو

جنابت میں سونے سے پہلے وضو: نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۶

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَشَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَتْ : " نَعَمْ ، وَيَتَوَضَّأُ " .

ابوسلمہ روایت:

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں گھر میں سوتے تھے؟ کہا ہاں لیکن وضو کر لیتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو سلمہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں گھر میں سوتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر لیتے تھے۔ اس حدیث کا اصل پیغام بہت صاف ہے۔ جنابت کے بعد فوراً غسل نہ ہو تو سونے سے پہلے وضو کیا جا سکتا ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل بیان ہوا ہے۔ یہاں غسل کے بدل کے طور پر وضو نہیں بتایا گیا، بلکہ سونے سے پہلے پاکی کا ایک طریقہ بتایا گیا ہے۔ اس لیے جنابت میں سونے سے پہلے وضو، غسل جنابت، اور طہارت کے آداب اس روایت کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جنابت کی حالت میں سونے سے پہلے وضو کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
  • وضو یہاں سونے سے پہلے پاکی کا ادب ہے، غسل کا مکمل بدل نہیں۔
  • دینی مسئلہ پوچھ کر واضح جواب لینا اچھی بات ہے۔
  • گھر کے معمولات میں بھی طہارت کا خیال رکھا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں