صحیح بخاری حدیث ۲۸۵ - مومن ہرگز نجس نہیں
مومن ہرگز نجس نہیں: جنابت سے متعلق آسان فہم حدیث
صحیح بخاری : ۲۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۵
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَقَالَ : أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ " .
ابوہریرہ روایت:
میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ اس وقت میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۵ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوہرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ جنابت کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور وہ ساتھ چلنے لگے، پھر وہ چپکے سے گھر گئے، غسل کیا اور واپس آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کہاں چلے گئے تھے؟ انہوں نے اپنا حال بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سبحان اللہ، مومن نجس نہیں ہوتا۔ یہ حدیث بہت واضح انداز میں بتاتی ہے کہ جنابت شرعی غسل کی حالت ہے، مگر مومن کا وجود نجس نہیں ہو جاتا۔ اس سے دل میں آسانی آتی ہے اور پاکی کے مسئلے میں حد سے بڑھی ہوئی سوچ کم ہوتی ہے۔ غسل کا حکم اپنی جگہ ہے، مگر مسلمان کی ذات کو ناپاک کہنا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنابت کی حالت میں بھی مومن بذات خود نجس نہیں ہوتا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ابوہرہؓ کی غلط فہمی کو آسان الفاظ میں دور کیا۔
- دین میں صفائی ہے، مگر بے جا سختی نہیں۔
- مومن کی عزت اور پاکی کا تصور قائم رہتا ہے۔
