صحیح بخاری حدیث ۲۸۷ - جنبی شخص کا وضو کر کے سونا
کیا جنبی شخص سو سکتا ہے؟ وضو کے بعد اجازت
صحیح بخاری : ۲۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۷
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ وَهُوَ جُنُبٌ " .
ابن عمر روایت:
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ فرمایا ہاں، وضو کر کے جنابت کی حالت میں بھی سو سکتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، جب تم میں سے کوئی وضو کر لے تو جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے۔ اس حدیث میں سوال بھی صاف ہے اور جواب بھی صاف ہے۔ جنابت میں سونا منع نہیں بتایا گیا، مگر وضو کے ساتھ سونے کا حکم بیان ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام پاکی کا خیال سکھاتا ہے، لیکن انسان پر ایسی تنگی نہیں ڈالتا جو حدیث کے متن میں نہ ہو۔ جنبی ہو کر سونا، وضو کر کے سونا، اور غسل جنابت سے پہلے نیند جیسے سوالات کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنابت کی حالت میں وضو کر کے سویا جا سکتا ہے۔
- شرعی مسئلہ سمجھنے کے لیے سوال کرنا درست طریقہ ہے۔
- دین پاکی کا ادب سکھاتا ہے، غیر ضروری سختی نہیں۔
- حدیث میں وضو کو سونے سے پہلے کا عمل بتایا گیا ہے۔
