صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۵ - سواری پر اشارے سے نماز
اشارے سے سواری پر نفل نماز
صحیح بخاری : ۱۱۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۰۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَبِّحُ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کی پیٹھ پر خواہ اس کا منہ کسی طرف ہوتا نفل نماز سر کے اشاروں سے پڑھتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنی سواری پر نفل نماز ادا کرتے تھے اور رکوع و سجدہ کے لیے سر کے اشارے کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر کی حالت میں جب مکمل طور پر زمین پر اترنا مشکل ہو تو نفل عبادات میں سہولت دی گئی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طریقے پر عمل کرتے تھے۔ اس حدیث کا بنیادی سبق یہ ہے کہ دین آسان ہے اور نفل عبادات میں حالات کے مطابق طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفل نماز میں اشارے سے ادائیگی جائز ہے
- سفر میں عبادت آسان طریقے سے کی جا سکتی ہے
- صحابہ کرام نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے پر عمل کرتے تھے
