صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۴ - سفر میں سواری پر نفل نماز
سواری پر نفل نماز ادا کرنے کی سہولت
صحیح بخاری : ۱۱۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۰۴
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى السُّبْحَةَ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ " .
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ روایت:
´اور لیث بن سعد رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ` انہوں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) سفر میں نفل نمازیں سواری پر پڑھتے تھے، وہ جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاتی ادھر ہی سہی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہوا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سفر کے دوران اپنی سواری پر نفل نماز ادا کرتے تھے، اور سواری جس طرف بھی رخ کرتی آپ اسی طرف نماز پڑھتے رہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل عبادات میں شریعت نے آسانی دی ہے، خاص طور پر سفر کی حالت میں۔ اس عمل سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ نفل نماز میں مکمل قیام کی شرط نہیں رہتی جب انسان حالت سفر میں ہو۔ یہ حدیث مسلمانوں کو یہ سکھاتی ہے کہ دین میں سختی نہیں بلکہ سہولت ہے، اور عبادت کو حالات کے مطابق آسان بنایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں نفل نماز سواری پر جائز ہے
- عبادت میں آسانی شریعت کا اصول ہے
- نفل عبادات میں سہولت دی گئی ہے
