صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۳ - چاشت کی نماز اور اس کی روایت
چاشت (ضحیٰ) نماز کی روایت اور عمل
صحیح بخاری : ۱۱۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۰۳
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِوٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : " مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ ، ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا ، فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً أَخَفَّ مِنْهَا ، غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ " .
ابن ابی لیلیٰ روایت:
´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر غسل کیا تھا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے بارے میں عام طور پر یہ مشہور نہیں تھا کہ آپ چاشت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتے تھے، البتہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا کہ فتح مکہ کے دن آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے گھر میں غسل کے بعد آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ اس نماز کو بعض اہل علم چاشت یا نفل نماز کے طور پر سمجھتے ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی عبادت میں مختلف مواقع پر نفل نمازیں شامل تھیں، لیکن ان کی کیفیت اور تعداد مختلف حالات کے مطابق ہوتی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفل عبادات مختلف مواقع پر ادا کی جا سکتی ہیں
- نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز میں خشوع اور اعتدال تھا
- صحابہ کرام کی روایات سے عبادات کی تفصیل معلوم ہوتی ہے
