صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۲ - سفر میں قصر نماز کا حکم
سفر میں دو رکعت نماز (قصر) کا طریقہ
صحیح بخاری : ۱۱۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۰۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : " صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ " ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت (فرض) سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو سفر میں ہمیشہ دو رکعت فرض نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بھی اسی طریقے پر عمل کرتے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سفر میں نماز کو مختصر کرنا یعنی قصر کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کی مستقل سنت تھی۔ یہ عمل امت کے لیے آسانی کا ذریعہ ہے تاکہ سفر کی مشغولیت میں عبادت میں مشکل نہ ہو۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ سفر میں شریعت نے آسانی رکھی ہے اور ہمیں اسی طریقے پر عمل کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں فرض نماز دو رکعت ادا کرنا سنت ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم اور خلفائے راشدین کا طریقہ ایک ہی تھا
- دین میں آسانی کو ترجیح دی گئی ہے
