صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۱ - سفر میں سنت نماز کا حکم
سفر میں سنت نماز اور نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ
صحیح بخاری : ۱۱۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " سَافَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ ، وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 " .
حفص بن عاصم بن عمر روایت:
میں نے سفر میں سنتوں کے متعلق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں۔ میں نے آپ کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو سفر کے دوران سنت یا نفل نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ سفر میں آپ صلى الله عليه وسلم کا معمول فرض عبادات پر زیادہ توجہ دینا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے قرآن کی آیت «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» کا حوالہ دے کر بتایا کہ ہمارے لیے اصل نمونہ نبی صلى الله عليه وسلم کی زندگی ہے۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دین پر عمل کرتے وقت ہمیں نبی صلى الله عليه وسلم کے عملی طریقے کو سامنے رکھنا چاہیے، خاص طور پر سفر جیسی حالت میں آسانی اور اصل فرض عبادات کو ترجیح دینا سیکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں نبی صلى الله عليه وسلم کے عملی طریقے کو دیکھ کر دین پر عمل کرنا چاہیے
- عبادات میں اصل توجہ فرض اعمال پر ہونی چاہیے
- قرآن و سنت کو عملی زندگی کے لیے رہنما بنایا جائے
