صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۷ - سفر میں نمازیں جمع کرنا
ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کا جمع کرنا
صحیح بخاری : ۱۱۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۰۷
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ سَيْرٍ ، وَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے، اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہوا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سفر کے دوران ظہر اور عصر کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے، اور اسی طرح مغرب اور عشاء کو بھی جمع کرتے تھے۔ یہ اس وقت ہوتا تھا جب آپ صلى الله عليه وسلم سفر کی حالت میں ہوتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے سفر میں نماز کے اوقات میں نرمی رکھی ہے تاکہ انسان کو مشکل نہ ہو۔ یہ عمل امت کے لیے آسانی کا ذریعہ ہے اور یہ بھی سکھاتا ہے کہ دین میں اصل مقصد آسانی اور عبادت کی حفاظت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں ظہر عصر اور مغرب عشاء جمع کیے جا سکتے ہیں
- شریعت میں آسانی کا اصول موجود ہے
- عبادت کو مشکل سے بچانے کی اجازت دی گئی ہے
