صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۸ - سفر میں مغرب و عشاء کی نماز جمع

مغرب و عشاء کو سفر میں جمع کرنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۰۸

وَعَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ ، وَتَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَحَرْبٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ اس روایت کی متابعت علی بن مبارک اور حرب نے یحییٰ سے کی ہے۔ یحییٰ، حفص سے اور حفص انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ملا کر پڑھی تھیں۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سفر میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے۔ مختلف صحابہ کی روایات بھی اس عمل کی تائید کرتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں نمازوں کو جمع کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے جب مشقت یا جلدی ہو۔ یہ عمل امت کے لیے آسانی کا ذریعہ ہے تاکہ عبادت متاثر نہ ہو۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دین میں سہولت موجود ہے اور عبادت کو حالات کے مطابق ادا کیا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں مغرب اور عشاء جمع کرنا سنت ہے
  • مشقت میں عبادت کو آسان بنایا گیا ہے
  • صحابہ کرام نے اس سنت کو اپنایا

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں