صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۲ - سفر میں نماز کے اوقات میں آسانی

سفر میں ظہر و عصر کے اوقات میں نرمی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۱۲

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر عصر کا وقت آنے تک نہ پڑھتے۔ پھر کہیں (راستے میں) ٹھہرتے اور ظہر اور عصر ملا کر پڑھتے لیکن اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھتے پھر سوار ہوتے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہوا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سفر کے دوران نمازوں کے اوقات میں نرمی اختیار فرماتے تھے۔ اگر سفر سورج ڈھلنے سے پہلے شروع ہوتا تو ظہر کو مؤخر کر کے عصر کے ساتھ جمع کیا جاتا، اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر ادا کر کے پھر سفر شروع کیا جاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے سفر میں عبادت کو آسان بنایا ہے تاکہ انسان کو مشکل نہ ہو۔ یہ حدیث دین میں سہولت کے اصول کو واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں نماز کے اوقات میں آسانی دی گئی ہے
  • ظہر اور عصر جمع کرنا جائز ہے
  • دین میں مشقت نہیں رکھی گئی

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں