صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۱ - سفر میں ظہر و عصر جمع کرنا
ظہر اور عصر کو سفر میں جمع کرنا
صحیح بخاری : ۱۱۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۱۱
حَدَّثَنَا حَسَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ، وَإِذَا زَاغَتْ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر سورج ڈھلنے سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کی نماز عصر تک نہ پڑھتے پھر ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھتے اور اگر سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب سفر شروع کرتے اور سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہوتے تو ظہر کو مؤخر کر کے عصر کے وقت دونوں نمازیں جمع کرتے۔ اگر سورج ڈھل چکا ہوتا تو پہلے ظہر ادا کرتے پھر سفر جاری رکھتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں نماز کے اوقات میں نرمی دی گئی ہے تاکہ عبادت میں آسانی ہو۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دین میں مشقت نہیں بلکہ سہولت رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں ظہر اور عصر جمع کرنا جائز ہے
- نماز کے اوقات میں نرمی دی گئی ہے
- سفر میں عبادت آسان بنائی گئی ہے
