صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۴ - امام کی پیروی اور نماز کی ترتیب
امام کی پیروی اور بیماری میں نماز
صحیح بخاری : ۱۱۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۱۴
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَخُدِشَ أَوْ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا ، وَقَالَ : إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آ گئے۔ ہم مزاج پرسی کے لیے گئے تو نماز کا وقت آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم نے بھی بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا تھا کہ امام اس لیے ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بیماری کے دوران بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ امام کی پیروی ضروری ہے، اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت میں امام کی اتباع بنیادی اصول ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ نماز میں نظم اور اتحاد برقرار رکھنا ضروری ہے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کی پیروی ہر حالت میں ضروری ہے
- بیماری میں بھی جماعت کا اصول برقرار رہتا ہے
- نماز میں نظم اور اتحاد اہم ہے
