صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۵ - نماز میں بیٹھنے کا اجر
نماز میں قیام، قعود اور اجر کا فرق
صحیح بخاری : ۱۱۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۱۵
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، عَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ ، قَالَ :حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَكَانَ مَبْسُورًا قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا ، فَقَالَ : " إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ " .
عمران بن حصین روایت:
آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (دوسری سند) اور ہمیں اسحاق بن منصور نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبدالصمد نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے باپ عبدالوارث سے سنا، کہا کہ ہم سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہا کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، وہ بواسیر کے مریض تھے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آدمی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل یہی ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ بیٹھ کر پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹے لیٹے پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے۔ اگر کوئی بیٹھ کر پڑھے تو اسے کھڑے ہونے والے کے مقابلے میں آدھا اجر ملے گا، اور اگر لیٹ کر پڑھے تو اس سے بھی کم اجر ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل حالت قیام ہے لیکن بیماری یا مجبوری میں آسانی موجود ہے۔ یہ حدیث عبادت میں نیت اور حالت دونوں کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیام نماز کی افضل حالت ہے
- بیماری میں بیٹھ کر نماز کی اجازت ہے
- اجر حالت کے مطابق کم زیادہ ہو سکتا ہے
