صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۶ - تہجد سے پہلے مسواک کی سنت
مسواک کی حدیث: تہجد سے پہلے منہ صاف کرنے کی سنت
صحیح بخاری : ۱۱۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۳۶
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ " .
حذیفہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے اپنا منہ مسواک سے خوب صاف کرتے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسواک اور تہجد کی تیاری ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے اپنا منہ مسواک سے اچھی طرح صاف کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے وقت صفائی کا خیال رکھنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی عادت مبارکہ میں شامل تھا۔ یہاں خاص طور پر رات کی نماز یعنی تہجد کا ذکر ہے، اس لیے بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ تہجد کا مکمل طریقہ کیا ہے، بلکہ صرف یہ بتاتی ہے کہ تہجد کے لیے اٹھتے وقت مسواک کی جاتی تھی۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو بندہ جب اللہ کے سامنے نماز کے لیے کھڑا ہو، تو منہ کی صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھے۔ یہی اس مسواک کی حدیث کا واضح پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تہجد کے لیے اٹھتے وقت منہ کی صفائی کا اہتمام نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔
- مسواک عبادت سے پہلے صفائی کی ایک سادہ اور عملی سنت ہے۔
- رات کی نماز کے وقت بھی صفائی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- حدیث میں خاص طور پر تہجد سے پہلے مسواک کرنے کا عمل بیان ہوا ہے۔
