صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۷ - رات کی نماز اور وتر کا آسان طریقہ
رات کی نماز: تہجد اور وتر کا مسنون طریقہ
صحیح بخاری : ۱۱۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۳۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ ؟ قَالَ : مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک شخص نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو، دو رکعت اور جب طلوع صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ کر اپنی ساری نماز کو طاق بنا لے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع رات کی نماز اور وتر کی نماز ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت صاف جواب دیا کہ رات کی نماز دو دو رکعت پڑھو۔ یعنی تہجد کی نماز یا رات کی نفل نماز پڑھتے ہوئے ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرنا اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب صبح طلوع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو، تاکہ پوری نماز طاق ہو جائے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ وتر کو رات کی نماز کے آخر میں ادا کرنا مناسب ہے، خاص طور پر جب فجر کا وقت قریب محسوس ہو۔ حدیث کا پیغام آسان ہے: رات کی عبادت کو ترتیب سے پڑھو، اور آخر میں ایک رکعت وتر کے ذریعے اسے طاق بنا لو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جائے۔
- صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لی جائے۔
- وتر رات کی پڑھی ہوئی نماز کو طاق بنا دیتا ہے۔
- دینی مسئلہ سمجھ نہ آئے تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
