صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۳ - بغیر خوف اور بارش نماز جمع
بغیر خوف اور بارش کے نمازیں جمع کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۶۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۳۳
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح . وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ ، وَلَا مَطَرٍ " ، فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو مدینہ میں بغیر خوف اور بارش کے جمع کیا۔ وکیع کی روایت میں ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حرج نہ ہو اور ابی معاویہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے کہا: کس ارادہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا؟ انہوں نے کہا: چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر تکلیف نہ ہو۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر اور عصر کو، اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا، جبکہ نہ خوف تھا اور نہ بارش۔ روایت میں آگے وجہ بھی بیان ہوئی کہ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ امت کو حرج نہ ہو۔ یہ جملہ حدیث کو سمجھنے میں بہت اہم ہے، کیونکہ یہاں وجہ روایت کے اندر ہی موجود ہے۔ اس حدیث میں سفر کا ذکر نہیں، بلکہ مدینہ کا ذکر ہے۔ اس لیے اسے دوسری سفر والی روایات سے ملاتے وقت فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ آسان الفاظ میں، حدیث بتاتی ہے کہ کبھی نمازیں جمع کی گئیں، اور اس کا مقصد امت پر تکلیف نہ ڈالنا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ میں بغیر خوف اور بارش کے نمازیں جمع کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- روایت میں امت سے حرج دور کرنے کی وجہ بیان ہوئی ہے۔
- ظہر عصر اور مغرب عشاء دونوں جوڑوں کا ذکر موجود ہے۔
