صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۹ - امت پر تکلیف نہ ہو
امت پر تکلیف نہ ہو: نمازیں جمع کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۶۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۲۹
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جميعا ، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ ، وَلَا سَفَرٍ " ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : فَسَأَلْتُ سَعِيدًا : لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز مدینہ میں بغیر خوف اور سفر کے ملا کر پڑھی۔ ابو الزبیر نے کہا کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں ایسا کیا؟ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی پوچھا تھا جیسا تم نے مجھ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ آپ کی امت میں کسی کو تکلیف نہ ہو۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۹ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز جمع کرنے کے موضوع میں ایک اہم جملہ بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر اور عصر کو بغیر خوف اور سفر کے جمع کیا۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اس کی وجہ پوچھی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ آپ کی امت میں کسی کو تکلیف نہ ہو۔ یہاں اصل نکتہ امت کی آسانی ہے، مگر حدیث کے الفاظ کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔ روایت میں ظہر اور عصر کا ذکر صاف ہے، اور وجہ بھی اسی عبارت میں آ گئی ہے۔ اس لیے وضاحت کرتے ہوئے یہی کہنا بہتر ہے کہ یہ عمل امت سے حرج دور کرنے کے لیے تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ میں بغیر خوف اور سفر کے ظہر اور عصر جمع کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- روایت میں اس کی وجہ امت سے تکلیف دور کرنا بیان ہوئی ہے۔
- سوال کرنے پر صحابی نے حدیث کی وجہ خود بیان کی۔
