صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۰ - غزوہ تبوک میں نمازیں جمع

غزوہ تبوک میں نمازیں جمع کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۳۰

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " ، قَالَ سَعِيدٌ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازوں کو ایک سفر میں جمع کیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک کو گئے تھے غرض ملا کر پڑھی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء۔ سعید نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو تکلیف نہ ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سفر، غزوہ تبوک، اور نمازیں جمع کرنے کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سفر میں نمازوں کو جمع کیا۔ آپ نے ظہر اور عصر کو جمع کیا، اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔ جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا، تو جواب ملا کہ آپ نے چاہا کہ آپ کی امت کو تکلیف نہ ہو۔ اس حدیث میں اصل پیغام سفر میں نماز کی آسانی اور امت کی سہولت ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ نمازیں چھوڑی نہیں گئیں، بلکہ جمع کر کے ادا کی گئیں۔ اسی لیے اسے سفر میں نماز جمع کرنے کی اہم روایت سمجھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غزوہ تبوک کے سفر میں نمازیں جمع کرنے کا ذکر آیا ہے۔
  • ظہر عصر اور مغرب عشاء دونوں جوڑے جمع کیے گئے۔
  • روایت میں امت کو تکلیف سے بچانے کی وجہ بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں