صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۱ - تبوک کے سفر میں نماز جمع
غزوہ تبوک میں ظہر عصر اور مغرب عشاء جمع
صحیح مسلم : ۱۶۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۳۱
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، " فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا " .
معاذ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک کو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر ملاتے اور مغرب اور عشاء ملاتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے، تو آپ ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھتے، اور مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔ روایت بہت سیدھی ہے۔ اس میں وجہ کی تفصیل نہیں، صرف عمل بیان ہے۔ اسی لیے اس حدیث سے اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں جوڑوں کی نمازیں جمع کرنا ثابت ہے۔ یہ سفر میں نماز جمع کرنے کی واضح روایت ہے۔ اس میں نماز کے چھوڑنے کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ نمازوں کو جمع کر کے ادا کرنے کا ذکر ہے۔ سفر کی حالت میں نماز کی حفاظت اور آسانی دونوں باتیں اس روایت سے سامنے آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غزوہ تبوک کے سفر میں ظہر اور عصر جمع کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- اسی سفر میں مغرب اور عشاء جمع کرنے کا ذکر بھی آیا ہے۔
- سفر میں نماز ادا کی گئی، اسے ترک نہیں کیا گیا۔
