صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۷ - سفر میں ظہر عصر اور مغرب عشاء جمع
سفر میں ظہر عصر اور مغرب عشاء جمع کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۶۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۲۷
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ ، يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ ، فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ ، حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر میں اتنی دیر کرتے کہ عصر کا اول وقت آ جاتا پھر دونوں کو جمع کرتے اور مغرب میں دیر کرتے جب شفق ڈوب جاتی تو اس کو عشاء کے ساتھ جمع کرتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر میں نماز جمع کرنے کے موضوع کو دونوں جوڑوں کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی ہوتی تو آپ ظہر کو عصر کے اول وقت تک مؤخر کرتے، پھر ظہر اور عصر کو جمع کرتے۔ اسی طرح مغرب میں تاخیر کرتے، یہاں تک کہ شفق ڈوب جاتی، پھر مغرب کو عشاء کے ساتھ جمع کرتے۔ اس روایت میں ظہر عصر جمع اور مغرب عشاء جمع دونوں کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ نہیں کہ نماز کو ہلکا لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ سفر کی ضرورت میں نماز کو مناسب طریقے سے ادا کیا جائے۔ الفاظ میں جلدی سفر، وقت کی تاخیر، اور جمع کرنے کی صورت صاف بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر کی جلدی میں ظہر اور عصر کو جمع کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- مغرب کو شفق ڈوبنے کے بعد عشاء کے ساتھ جمع کرنے کا ذکر بھی آیا ہے۔
- نماز کا اہتمام سفر کی ضرورت کے مطابق کیا گیا۔
