صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۶ - سفر میں دو نمازیں اکٹھی کرنا

سفر میں دو نمازیں جمع کرنے کا نبوی طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۲۶

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَايِنِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب سفر میں دو نمازوں کے اکٹھا کرنے کا ارادہ کرتے تو ظہر میں اتنی دیر کرتے کہ عصر کا وقت آ جاتا پھر دونوں ملا لیتے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا ایک خاص طریقہ بیان ہوا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا ارادہ کرتے تو ظہر میں اتنی دیر کرتے کہ عصر کا وقت داخل ہو جاتا، پھر دونوں نمازیں جمع کر لیتے۔ اس روایت میں ظہر اور عصر جمع کرنے کا ذکر ہے، اور خاص طور پر یہ بات آئی ہے کہ ظہر کو عصر کے اول وقت تک مؤخر کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں نماز کا وقت اور ترتیب سوچ سمجھ کر رکھی گئی۔ حدیث میں اتنا ہی بیان ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی غیر ضروری دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ اصل سبق نماز کی پابندی اور سفر میں آسانی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر کے جمع کرنے کا ذکر آیا ہے۔
  • دو نمازیں جمع کرنے کا ارادہ ہو تو روایت میں وقت کی ترتیب بھی بیان ہوئی ہے۔
  • سفر کی آسانی کے باوجود نماز کی ادائیگی باقی رہتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں