صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۵ - سفر میں ظہر اور عصر جمع کرنا
سفر میں ظہر اور عصر جمع کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۶۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۲۵
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَكِبَ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آفتاب ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر میں دیر کرتے عصر کے وقت تک پھر اتر کر دونوں ملا کر پڑھتے اور اگر کوچ سے پہلے آفتاب ڈھل جاتا تو ظہر پڑھ کر سوار ہوتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سفر میں ظہر اور عصر جمع کرنا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے، یہاں تک کہ عصر کا وقت آ جاتا، پھر اتر کر دونوں نمازیں ملا کر پڑھتے۔ اور اگر کوچ سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ کر سوار ہوتے۔ اس روایت میں سفر کی ترتیب بہت واضح ہے۔ اگر روانگی زوال سے پہلے ہوتی تو ظہر عصر کے ساتھ جمع ہوتی، اور اگر زوال پہلے ہو جاتا تو ظہر پہلے ادا کی جاتی۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ سفر میں نماز کا معاملہ وقت، روانگی اور سہولت کے مطابق رکھا گیا، مگر نماز کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں زوال سے پہلے روانگی ہو تو ظہر کو عصر تک مؤخر کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- اگر زوال سے پہلے روانگی نہ ہو تو ظہر ادا کر کے سفر جاری رکھا گیا۔
- سفر میں نماز کا اہتمام حالات کے مطابق کیا گیا۔
