صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۴ - سفر میں مغرب مؤخر کر کے عشاء کے ساتھ

سفر میں مغرب کو عشاء کے ساتھ جمع کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۲۴

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ ، يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ " .

سالم روایت:

سالم نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جلدی چلنا ہوتا سفر میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب میں دیر کر کے عشاء کے ساتھ پڑھتے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۴ کا خلاصہ

یہ حدیث سفر میں مغرب اور عشاء جمع کرنے کے طریقے کو مزید صاف کرتی ہے۔ سالم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ مغرب کی نماز میں تاخیر کرتے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ جمع کر لیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جمع کی ایک صورت یہ بیان ہوئی ہے کہ مغرب کو مؤخر کیا گیا اور عشاء کے ساتھ پڑھا گیا۔ یہاں اصل وجہ سفر کی جلدی ہے، نہ کہ عام سستی یا نماز کو ہلکا سمجھنا۔ اس روایت کا آسان پیغام یہ ہے کہ سفر میں بھی نماز قائم رہتی ہے، مگر ضرورت کے وقت شریعت میں آسان طریقہ موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر کی جلدی میں مغرب کو عشاء کے ساتھ جمع کرنے کا ذکر آیا ہے۔
  • نماز کو چھوڑنے کے بجائے مناسب وقت پر جمع کر کے ادا کیا گیا۔
  • حدیث میں بیان کردہ آسانی سفر اور جلدی کی حالت کے ساتھ وابستہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں