صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۲ - شفق کے بعد مغرب عشاء جمع کرنا

شفق کے بعد مغرب اور عشاء جمع کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۲۲

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، بَعْدَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ، وَيَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ، جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " .

نافع روایت:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جب جلدی چلنا ہوتا تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھتے بعد غروب شفق کے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جلدی چلنا ہوتا تو مغرب اور عشاء ملا کر پڑھتے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سفر میں نماز جمع کرنے کا ایک واضح طریقہ بیان ہوا ہے۔ نافع رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو وہ مغرب اور عشاء کو شفق ڈوبنے کے بعد ملا کر پڑھتے۔ پھر وہ یہی بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب جلدی سفر کرتے تو مغرب اور عشاء جمع کرتے۔ اس حدیث میں اہم بات یہ ہے کہ عمل صحابی کے ذریعے نبوی عمل کی وضاحت ہو رہی ہے۔ یہاں مغرب عشاء جمع نماز کا ذکر سفر اور تیز چلنے کی حالت کے ساتھ آیا ہے۔ اس لیے اسے عام حالات پر پھیلانے کے بجائے حدیث کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔ روایت ہمیں نماز کی پابندی کے ساتھ سفر کی عملی آسانی بھی سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں جلدی ہو تو مغرب اور عشاء کو شفق کے بعد جمع کیا جا سکتا ہے۔
  • صحابی کا عمل نبوی عمل کی وضاحت کے ساتھ نقل ہوا ہے۔
  • نماز کو چھوڑا نہیں گیا بلکہ سفر کے مطابق ادا کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں