صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۲ - امت کی آسانی کے لیے نماز جمع

امت کی آسانی کے لیے نمازیں جمع کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۳۲

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ : " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ .

معاذ بن جبل روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔ میں نے کہا (یہ قول ہے عامر بن واثلہ کا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ آپ کی امت کو تکلیف نہ ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر کو جمع کیا، اور مغرب اور عشاء کو بھی جمع کیا۔ عامر بن واثلہ رحمہ اللہ نے وجہ پوچھی تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ آپ کی امت کو تکلیف نہ ہو۔ یہ روایت سفر میں نماز جمع کرنے کے ساتھ اس کے مقصد کو بھی بیان کرتی ہے۔ یہاں امت کی آسانی کا ذکر حدیث کے اندر ہی آیا ہے، اس لیے اسے اعتماد سے کہا جا سکتا ہے۔ مگر اس آسانی کو حدیث کے سیاق یعنی غزوہ تبوک کے سفر اور نمازوں کے جمع کرنے کے ساتھ ہی سمجھنا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ نماز بھی باقی رہی اور امت پر مشقت بھی کم رکھی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غزوہ تبوک میں ظہر عصر اور مغرب عشاء جمع کرنے کا ذکر آیا ہے۔
  • روایت میں اس عمل کی وجہ امت سے تکلیف دور کرنا بیان ہوئی ہے۔
  • نماز کی ادائیگی میں آسانی رکھی گئی، مگر نماز ترک نہیں ہوئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں