صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۵ - مدینہ میں سات اور آٹھ رکعتیں
مدینہ میں ظہر عصر اور مغرب عشاء جمع کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۶۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۳۵
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا ، وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ ، وَالْعَصْرَ ، وَالْمَغْرِبَ ، وَالْعِشَاءَ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی مدینہ میں سات رکعت ملا کر اور آٹھ رکعت ملا کر ظہر اور عصر ملا کر اور مغرب اور عشاء ملا کر۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سات رکعتیں اور آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھیں۔ روایت خود وضاحت کرتی ہے کہ اس سے مراد ظہر اور عصر، اور مغرب اور عشاء ہیں۔ سات رکعتوں سے مغرب اور عشاء، اور آٹھ رکعتوں سے ظہر اور عصر سمجھ میں آتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، اس لیے اس سے زیادہ تفصیل اسی وقت بیان کی جا سکتی ہے جب دوسری روایات کو الگ سے ذکر کیا جائے۔ اس روایت کا سیدھا پیغام یہ ہے کہ مدینہ میں نمازیں جمع کرنے کا عمل نقل ہوا ہے۔ نماز کے اوقات اور فقہی تطبیق کے بارے میں اہل علم کی تفصیل موجود ہے، مگر یہاں متن کے مطابق اصل بات جمع نماز ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ میں سات اور آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔
- روایت میں ظہر عصر اور مغرب عشاء کی وضاحت موجود ہے۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے اس سے زائد تفصیل احتیاط سے بیان کرنی چاہیے۔
