صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۴ - آٹھ اور سات رکعتیں اکٹھی

آٹھ اور سات رکعتیں اکٹھی پڑھنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۳۴

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثَمَانِيًا جَمِيعًا ، وَسَبْعًا جَمِيعًا ، قُلْتُ : يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ ، " أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ ؟ قَالَ : وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ " .

ابن عباس روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آٹھ رکعتیں اکٹھا کر کے (یعنی ظہر اور عصر ملا کر) اور سات رکعتیں اکٹھا کر کے (یعنی مغرب اور عشاء ملا کر) میں نے کہا: اے ابوالشعثاء! میں گمان کرتا ہوں کہ آپ نے ظہر میں تاخیر کی اور عصر اول وقت پڑھی اور مغرب میں تاخیر کی اور عشاء اول وقت پڑھی، انہوں نے کہا کہ میں بھی یہی گمان کرتا ہوں۔

صحیح مسلم حدیث ۱۶۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھیں، یعنی ظہر اور عصر، اور سات رکعتیں اکٹھی پڑھیں، یعنی مغرب اور عشاء۔ پھر ابوالشعثاء سے پوچھنے والے نے کہا کہ میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں تاخیر کی اور عصر جلدی پڑھی، اسی طرح مغرب میں تاخیر کی اور عشاء جلدی پڑھی۔ ابوالشعثاء نے کہا کہ میں بھی یہی گمان کرتا ہوں۔ اس حدیث میں لفظ گمان خود موجود ہے، اس لیے اسے قطعی انداز میں بیان نہیں کرنا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ ظہر عصر اور مغرب عشاء کو اکٹھا پڑھنے کا واقعہ نقل ہوا ہے، اور اس کی ممکنہ صورت تاخیر اور تعجیل کے طور پر سمجھی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظہر اور عصر کو آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔
  • مغرب اور عشاء کو سات رکعتیں اکٹھی پڑھنے کا ذکر بھی آیا ہے۔
  • روایت میں وقت کی صورت کو گمان کے طور پر بیان کیا گیا ہے، قطعی دعویٰ نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں