صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۵ - رات کے آخری تہائی حصے کی دعا
رات کے آخری تہائی حصے میں دعا اور استغفار کی فضیلت
صحیح بخاری : ۱۱۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۴۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ , يَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع رات کے آخری تہائی حصے کی دعا، مانگنا اور استغفار ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار ہر رات اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے۔ پھر فرمایا جاتا ہے کہ کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں، کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ اس حدیث میں رات کے آخری وقت کی بڑی ترغیب ہے۔ یہ وقت غفلت کا نہیں، اللہ سے مانگنے کا وقت ہے۔ بندہ اپنی ضرورت، اپنی کمزوری اور اپنی مغفرت کی دعا سادہ الفاظ میں کر سکتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ دعا، سوال اور استغفار کے لیے رات کا آخری حصہ بہت قیمتی وقت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کا آخری تہائی حصہ دعا کے لیے خاص وقت بتایا گیا ہے۔
- اللہ سے مانگنا، دعا کرنا اور استغفار کرنا اس حدیث کا اصل پیغام ہے۔
- بندے کو اپنی حاجت اللہ کے سامنے رکھنی چاہیے۔
- رات کے آخری حصے میں غفلت کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
