صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۶ - جریج، والدہ کی پکار اور نماز

جریج کی حدیث: ماں کی پکار اور نماز کا امتحان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۰۶

وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ , قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَادَتِ امْرَأَةٌ ابْنَهَا وَهُوَ فِي صَوْمَعَةٍ , قَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي ، قَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي ، قَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي ، قَالَتْ : اللَّهُمَّ لَا يَمُوتُ جُرَيْجٌ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمَيَامِيسِ ، وَكَانَتْ تَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ رَاعِيَةٌ تَرْعَى الْغَنَمَ فَوَلَدَتْ ، فَقِيلَ لَهَا : مِمَّنْ هَذَا الْوَلَدُ ؟ قَالَتْ : مِنْ جُرَيْجٍ ، نَزَلَ مِنْ صَوْمَعَتِهِ ، قَالَ جُرَيْجٌ : أَيْنَ هَذِهِ الَّتِي تَزْعُمُ أَنَّ وَلَدَهَا لِي ؟ قَالَ : يَا بَابُوسُ مَنْ أَبُوكَ ؟ قَالَ : رَاعِي الْغَنَمِ

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (بنی اسرائیل کی) ایک عورت نے اپنے بیٹے کو پکارا، اس وقت وہ عبادت خانے میں تھا۔ ماں نے پکارا کہ اے جریج! جریج (پس و پیش میں پڑ گیا اور دل میں) کہنے لگا کہ اے اللہ! میں اب ماں کو دیکھوں یا نماز کو۔ پھر ماں نے پکارا: اے جریج! (وہ اب بھی اس پس و پیش میں تھا) کہ اے اللہ! میری ماں اور میری نماز! ماں نے پھر پکارا: اے جریج! (وہ اب بھی یہی) سوچے جا رہا تھا۔ اے اللہ! میری ماں اور میری نماز! (آخر) ماں نے تنگ ہو کر بددعا کی اے اللہ! جریج کو موت نہ آئے جب تک وہ فاحشہ عورت کا چہرہ نہ دیکھ لے۔جریج کی عبادت گاہ کے قریب ایک چرانے والی آیا کرتی تھی جو بکریاں چراتی تھی۔ اتفاق سے اس کے بچہ پیدا ہوا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کس کا بچہ ہے؟ اس نے کہا کہ جریج کا ہے۔ وہ ایک مرتبہ اپنی عبادت گاہ سے نکل کر میرے پاس رہا تھا۔ جریج نے پوچھا کہ وہ عورت کون ہے؟ جس نے مجھ پر تہمت لگائی ہے کہ اس کا بچہ مجھ سے ہے۔ (عورت بچے کو لے کر آئی تو) انہوں نے بچے سے پوچھا کہ بچے! تمہارا باپ کون؟ بچہ بول پڑا کہ ایک بکری چرانے والا گڈریا میرا باپ ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث جریج کے واقعہ کے ذریعے ماں کی پکار، نماز میں مشغولی، اور آزمائش کا ذکر کرتی ہے۔ جریج عبادت گاہ میں تھے، ان کی ماں نے انہیں پکارا۔ وہ دل میں سوچتے رہے کہ اے اللہ، میری ماں یا میری نماز۔ ماں نے کئی بار پکارا، پھر تنگ آ کر بددعا کی کہ جریج مرنے سے پہلے فاحشہ عورت کا چہرہ دیکھے۔ بعد میں ایک چرانے والی عورت نے بچے کے بارے میں جریج پر الزام لگایا۔ جریج نے بچے سے پوچھا کہ تمہارا باپ کون ہے، تو بچے نے کہا کہ میرا باپ بکری چرانے والا گڈریا ہے۔ اس حدیث میں واقعہ جتنا بیان ہوا ہے، اسی حد تک یہ سبق ملتا ہے کہ عبادت کے ساتھ والدہ کے معاملے میں احتیاط اور نرمی بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ماں کی پکار کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • عبادت کے دوران بھی انسان کو اپنے قریبی حق داروں کے بارے میں سوچنا پڑ سکتا ہے۔
  • تہمت لگانا بہت سنگین معاملہ ہے، جیسا کہ جریج کے واقعہ میں آیا۔
  • اللہ تعالیٰ نے بچے کی گواہی کے ذریعے جریج کی صفائی ظاہر فرما دی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں