صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۷ - سجدہ کی جگہ برابر کرنے کا حکم

سجدہ کی جگہ برابر کرنا: نماز میں کم حرکت کا ادب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۰۷

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ ، قَالَ : إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً " .

معیقیب بن ابی طلحہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا اگر ایسا کرنا ہے تو صرف ایک ہی بار کر۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع نماز میں سجدہ کی جگہ برابر کرنا اور غیر ضروری حرکت سے بچنا ہے۔ ایک شخص ہر سجدے کے وقت کنکریاں یا مٹی برابر کرتا تھا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر ایسا کرنا ہے تو صرف ایک ہی بار کر۔ اس سے نماز میں سکون، توجہ، اور عمل کی سادگی معلوم ہوتی ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ضرورت کے وقت جگہ درست کرنا بالکل منع ہے، بلکہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کرنا ہی ہو تو بار بار نہ کیا جائے۔ نماز میں چھوٹی چھوٹی حرکتیں بھی انسان کی توجہ کم کر سکتی ہیں، اس لیے سجدہ کی جگہ برابر کرنے کا حکم محدود رکھا گیا۔ اس حدیث کو نماز میں حرکت، سجدہ کی جگہ، اور نماز کے آداب کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں غیر ضروری حرکت سے بچنا چاہیے۔
  • سجدہ کی جگہ درست کرنی پڑے تو اسے بار بار نہ کیا جائے۔
  • ضرورت ہو تو ایک بار جگہ برابر کرنے کی گنجائش حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
  • نماز میں سکون اور توجہ برقرار رکھنا اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں