صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۹ - نماز میں اشارہ اور سجدہ کی جگہ

نماز میں سجدہ کے لیے اشارہ کرنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۰۹

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " كُنْتُ أَمُدُّ رِجْلِي فِي قِبْلَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَرَفَعْتُهَا ، فَإِذَا قَامَ مَدَدْتُهَا " .

عائشہ روایت:

میں اپنا پاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پھیلا لیتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہاتھ لگاتے، میں پاؤں سمیٹ لیتی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے تو میں پھیلا لیتی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۲۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے اپنا پاؤں پھیلا لیتی تھیں جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم سجدہ کرنے لگتے تو انہیں ہاتھ لگاتے، وہ پاؤں سمیٹ لیتیں، پھر جب آپ صلى الله عليه وسلم کھڑے ہو جاتے تو وہ پاؤں دوبارہ پھیلا لیتیں۔ اس حدیث کا موضوع نماز میں اشارہ، سجدہ کی جگہ، اور ضرورت کے وقت ہلکی حرکت ہے۔ یہاں کوئی لمبی بات یا نماز سے باہر والی مصروفیت نہیں، بلکہ صرف سجدہ کے لیے جگہ بنانے کا معاملہ ہے۔ اس سے نماز میں سادگی، گھر کے ماحول، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل کا ایک واضح پہلو سامنے آتا ہے۔ نماز میں اشارہ کرنا اور سجدہ کی جگہ بنانا اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں ضرورت کے وقت ہلکا اشارہ کیا جا سکتا ہے۔
  • سجدہ کے لیے جگہ بنانا نماز کی ادائیگی کا حصہ ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے گھر کا عمل سادہ اور آسان تھا۔
  • نماز میں غیر ضروری بات کے بجائے مختصر اشارہ کافی ہو سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں