صحیح بخاری حدیث ۱۲۲۷ - کم رکعت پر سلام پھیرنے کا واقعہ
کم رکعت پر سلام پھیرنے کی حدیث: ذوالیدین کا واقعہ
صحیح بخاری : ۱۲۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۲۷
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ : الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَقَصَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَحَقٌّ مَا يَقُولُ ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " ، قَالَ سَعْدٌ : وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، وَقَالَ : هَكَذَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ذوالیدین کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں؟ (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر صرف رکعتوں پر سلام پھیر دیا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ کہتے ہیں؟ صحابہ نے کہا جی ہاں، اس نے صحیح کہا ہے۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اور پڑھائیں پھر دو سجدے کئے۔سعد نے بیان کیا کہ عروہ بن زبیر کو میں نے دیکھا کہ آپ نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں۔ پھر باقی ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے مشہور واقعے کو بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیرا۔ ذوالیدین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا یہ سچ کہتے ہیں؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے دو رکعت اور پڑھائیں اور اس کے بعد دو سجدے کیے۔ اس روایت میں نماز کے اندر بھول، امام سے ادب کے ساتھ بات پوچھنا، اور تصدیق کے بعد نماز مکمل کرنا تینوں باتیں صاف نظر آتی ہیں۔ سعد کے بیان میں عروہ بن زبیر کا عمل بھی آیا ہے کہ باقی رکعت پڑھ کر دو سجدے کیے اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل کی طرف نسبت کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کم رہ جائے تو تصدیق کے بعد باقی رکعت پوری کی گئی۔
- امام سے نماز کی بھول پر ادب کے ساتھ سوال کیا جا سکتا ہے۔
- باقی نماز مکمل کرنے کے بعد سجدہ سہو کیا گیا۔
