صحیح بخاری حدیث ۶۰۸ - اذان سے شیطان کا بھاگنا
اذان کی فضیلت: شیطان اذان کی آواز سے بھاگتا ہے
صحیح بخاری : ۶۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا قَضَى النِّدَاءَ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ ، حَتَّى إِذَا قَضَى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پادتا ہوا بڑی تیزی کے ساتھ پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے۔ لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوئی وہ پھر پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔جب تکبیر بھی ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر فلاں بات یاد کر۔ ان باتوں کی شیطان یاد دہانی کراتا ہے جن کا اسے خیال بھی نہ تھا اور اس طرح اس شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۸ کا خلاصہ
یہ اذان کی فضیلت والی حدیث ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے۔ اذان ختم ہو تو واپس آتا ہے، پھر اقامت شروع ہو تو دوبارہ بھاگتا ہے۔ اقامت ختم ہو جائے تو پھر آ کر نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ وہ نمازی کو ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جن کا اسے پہلے خیال بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ آدمی بھول جاتا ہے کہ کتنی رکعتیں پڑھیں۔ اس حدیث سے نماز میں توجہ کی اہمیت سمجھ آتی ہے، مگر متن میں علاج کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے بات کو اسی بیان تک رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان اور اقامت شیطان پر سخت ہیں۔
- نماز میں وسوسے آ سکتے ہیں، اس لیے توجہ کی ضرورت ہے۔
- رکعات بھول جانا شیطانی وسوسے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
