صحیح بخاری حدیث ۶۰۷ - اقامت میں قد قامت الصلوة

اقامت کا طریقہ اور قد قامت الصلوة کا خاص ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۷

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ " ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : فَذَكَرْتُ لِأَيُّوبَ ، فَقَالَ : إِلَّا الْإِقَامَةَ .

انس روایت:

بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر میں یہی کلمات ایک ایک دفعہ۔ اسماعیل نے بتایا کہ میں نے ایوب سختیانی سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا مگر لفظ «قد قامت الصلوة» دو ہی دفعہ کہا جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر یعنی اقامت کے کلمات ایک ایک دفعہ کہیں۔ اس کے بعد راوی اسماعیل نے بتایا کہ انہوں نے ایوب سے یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ «قد قامت الصلوة» دو دفعہ کہا جائے گا۔ اس روایت سے اذان اور اقامت کے طریقے میں فرق معلوم ہوتا ہے۔ اذان کا اعلان عام ہے، اس لیے کلمات دہرائے جاتے ہیں۔ اقامت نماز شروع ہونے کی خبر ہے، اس لیے مختصر ہے، مگر «قد قامت الصلوة» کا خاص ذکر روایت میں آیا ہے۔ اس حدیث کو اسی خاص موضوع تک محدود رکھنا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اذان اور اقامت کے الفاظ کی ادائیگی میں فرق ہے۔
  • قد قامت الصلوة کا ذکر اس روایت میں خاص طور پر آیا ہے۔
  • دینی طریقے میں روایت کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں