صحیح بخاری حدیث ۶۰۶ - نماز کے اعلان کے لیے اذان

نماز کے وقت کا اعلان: اذان کا سادہ اور واضح طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ، قَالَ : " ذَكَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ ، فَذَكَرُوا أَنْ يُورُوا نَارًا أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا ، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ " .

انس بن مالک روایت:

جب مسلمان زیادہ ہو گئے تو مشورہ ہوا کہ کسی ایسی چیز کے ذریعہ نماز کے وقت کا اعلان ہو جسے سب لوگ سمجھ لیں۔ کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ آگ روشن کی جائے۔ یا نرسنگا کے ذریعہ اعلان کریں۔ لیکن آخر میں بلال کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر کے ایک ایک دفعہ۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا کہ جب مسلمان زیادہ ہو گئے تو نماز کے وقت کے اعلان کے لیے مشورہ کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ کوئی ایسی چیز ہو جس سے لوگ وقت نماز سمجھ لیں۔ کچھ لوگوں نے آگ روشن کرنے کا ذکر کیا، کچھ نے ناقوس بجانے کی بات کی۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر یعنی اقامت کے کلمات ایک ایک دفعہ کہیں۔ یہ اذان کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جماعتی نماز کے لیے نظم، اعلان اور سمجھ آنے والا طریقہ ضروری ہے۔ یہاں روایت کا زور اسی بات پر ہے کہ نماز کے لیے پکارنے کا طریقہ مقرر ہوا اور بلال رضی اللہ عنہ اس کام پر مامور ہوئے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے لیے وقت کا اعلان لوگوں کی آسانی کے لیے ہے۔
  • اذان کے کلمات دو دو بار کہے جاتے ہیں۔
  • اقامت نماز کے شروع ہونے کا مختصر اعلان ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں