صحیح بخاری حدیث ۶۰۵ - اذان دو بار، اقامت ایک بار
اذان اور اقامت کے کلمات کتنی بار کہے جائیں؟
صحیح بخاری : ۶۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۵
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ ، إِلَّا الْإِقَامَةَ " .
انس روایت:
بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور سوا «قد قامت الصلوة» کے تکبیر کے کلمات ایک ایک دفعہ کہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں اذان اور اقامت کے کلمات کی تعداد بیان ہوئی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں، اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہیں، سوائے «قد قامت الصلوة» کے۔ اس سے اذان کا طریقہ اور اقامت کا طریقہ الگ الگ سمجھ میں آتا ہے۔ اذان لوگوں کو نماز کے لیے بلانے کا اعلان ہے، اس لیے اس کے کلمات دہرائے گئے۔ اقامت نماز کے قائم ہونے کا اعلان ہے، اس لیے اس میں کلمات مختصر رکھے گئے۔ اس حدیث سے صرف وہی بات ثابت کی جائے جو متن میں آئی ہے: اذان میں تکرار، اقامت میں اختصار، اور «قد قامت الصلوة» کا الگ ذکر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان کے کلمات دہرائے جاتے ہیں تاکہ اعلان واضح ہو۔
- اقامت کا انداز اذان سے مختصر ہے۔
- قد قامت الصلوة کا ذکر اس روایت میں الگ طور پر آیا ہے۔
