صحیح بخاری حدیث ۶۲۴ - اذان اور اقامت کے درمیان نماز
اذان اور اقامت کے درمیان نفل نماز کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۴
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ثَلَاثًا لِمَنْ شَاءَ " .
عبداللہ بن مغفل مزنی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان ایک نماز (کا فصل) دوسری نماز سے ہونا چاہیے (تیسری مرتبہ فرمایا کہ) جو شخص ایسا کرنا چاہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت کے درمیان نماز پڑھنے کی ترغیب دی۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ یہاں دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔ پھر تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا کہ یہ اس شخص کے لیے ہے جو پڑھنا چاہے۔ اس جملے سے بات بہت صاف ہو جاتی ہے کہ یہ نماز فرض کی طرح لازم نہیں، بلکہ موقع ملے تو پڑھی جا سکتی ہے۔ حدیث کا انداز بھی نرم ہے۔ اس میں عبادت کی طرف رغبت دلائی گئی ہے، مگر ساتھ ہی آسانی بھی رکھی گئی ہے تاکہ لوگ اسے لازمی بوجھ نہ سمجھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان اور اقامت کے درمیان نفل پڑھنے کی ترغیب ہے۔
- یہ نماز ہر شخص پر لازم نہیں، بلکہ چاہنے والے کے لیے ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت میں آسانی بھی رکھی۔
- نفل عبادت فرض نماز کی تیاری کا اچھا موقع بن سکتی ہے۔
