صحیح بخاری حدیث ۶۲۵ - مغرب سے پہلے دو رکعتیں
مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيَّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُمْ كَذَلِكَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ " ، قَالَ عُثْمَانُ بْنُ جَبَلَةَ : وَأَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا قَلِيلٌ .
انس بن مالک روایت:
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن عامر انصاری سے سنا، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ` آپ نے فرمایا کہ (عہدرسالت میں) جب مؤذن اذان دیتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ستونوں کی طرف لپکتے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ سے باہر تشریف لاتے تو لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے ملتے۔ یہ جماعت مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں تھیں۔ اور (مغرب میں) اذان اور تکبیر میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔اور عثمان بن جبلہ اور ابوداؤد طیالسی نے شعبہ سے اس (حدیث میں یوں نقل کیا ہے کہ) اذان اور تکبیر میں بہت تھوڑا سا فاصلہ ہوتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک عمل بتایا۔ جب مؤذن مغرب کی اذان دیتا تو صحابہ ستونوں کی طرف جلدی جاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ سے باہر آنے تک دو رکعتیں پڑھتے۔ یہ مغرب سے پہلے کی دو رکعتیں تھیں۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا، بلکہ بہت تھوڑا وقفہ ہوتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اس مختصر وقت کو بھی نماز کے لیے استعمال کرتے تھے۔ حدیث ہمیں یہی بات بتاتی ہے کہ موقع ملے تو اذان کے بعد مختصر نفل پڑھنا اچھا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ مغرب کی اذان کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
- مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کم ہوتا تھا۔
- کم وقت میں بھی عبادت کا موقع لیا جا سکتا ہے۔
- یہ عمل صحابہ کے ذوق عبادت کو ظاہر کرتا ہے۔
